مظفرآباد (انٹرنیشنل ڈیسک) کشمیر ویمن الرٹ فورم کی چیئرپرسن اور مسلم کانفرنس خواتین ونگ کی مرکزی چیئرپرسن محترمہ سمعیہ ساجد نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمعہ کے خطبات کو سرکاری ہدایات کے تابع کرنے کی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور مساجد کے منبروں پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہے، جو مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔
سمعیہ ساجد نے کہا کہ جمعہ کا خطبہ مسلمانوں کی دینی رہنمائی اور حق و انصاف کی آواز بلند کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ کسی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ائمہ مساجد اور علمائے کرام کو اپنی مرضی کے خطبات دینے کا پابند بنائے۔
مساجد کے منبر دینی رہنمائی کے مراکز ہیں، جنہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں قابلِ تشویش ہیں۔
انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال کا نوٹس لیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام اپنے مذہبی تشخص، اسلامی اقدار اور بنیادی آزادیوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے اور اپنے دینی فرائض آزادانہ طور پر ادا کرنے کا حق رکھتے ہیں۔


