اداریہ | روزنامہ صورت حال، 5 نومبر 2026، صفحہ 2۔ اصل اشاعت میں مصنف کا نام درج نہیں۔
دیہی خواتین کسی بھی معاشرے کی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں خواتین زراعت، مویشی پالنے، دست کاری، گھریلو صنعتوں اور دیگر معاشی سرگرمیوں میں نمایاں حصہ لیتی ہیں تاہم ان کی محنت کو اکثر مناسب معاوضہ، جدید تربیت اور منڈیوں تک رسائی نہیں مل پاتی۔ دیہی خواتین کیلئے حکومت کا مختلف شعبوں میں ٹریننگ دینا احسن اقدام ہے۔ ملکی ترقی میں صرف شہری خواتین ہی نہیں بلکہ دیہی خواتین بھی برابر کی شریک ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے دیہی خواتین کو مارکیٹ بیسڈ ٹریننگ فراہم کر کے باوقار روزگار کے قابل بنانے کا تصور ایک اہم اور تعمیری اقدام ہے، جو خواتین کی معاشی خودمختاری، خاندانی خوش حالی اور دیہی معیشت کے استحکام میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ خواتین کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنر سکھا کر ٹیکسٹائل انڈسٹری میں روزگار بھی دیا جائے گا۔
دیہی خواتین کیلئے ٹیکسٹائل ٹریننگ کیلئے شی تھریڈ پروگرام کامیابی سے جاری ہے۔ جس کے تحت 1150 دیہی خواتین ٹیکسٹائل ٹریننگ مکمل کر کے ٹریننگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جون تک 2500 دیہی خواتین کی ٹیکسٹائل ٹریننگ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گاؤں کی خواتین کو ماہانہ 15 ہزار روپے وظیفہ بھی ملے گا۔ ٹریننگ کی تکمیل کے بعد ٹیکسٹائل انڈسٹری میں روزگار بھی فراہم کیا جائے گا۔ دیہی خواتین کو انڈسٹریل سلائی مشین آپریٹر اپیرل، سپروائزر ٹریننگ دی جائے گی۔ لاہور کے قریب ملتان روڈ پر واقع شاہکام انڈسٹری میں شی تھریڈ پروگرام کی ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ 3 ماہ کی ٹریننگ کورس میں کلاس روم، تدریس کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل ٹریننگ بھی کرائی جائے گی۔ 18 سے 45 سالہ خواتین کے پاس پنجاب کا رہائشی اور ڈومیسائل ہونا ضروری ہے۔ رجسٹریشن کیلئے میٹرک کی اہلیت مقرر کی گئی ہے۔
دیہی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے فوائد انفرادی خاندانوں سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ جب خواتین اپنی آمدن میں اضافہ کرتی ہیں تو بچوں کی تعلیم، صحت، خوراک اور گھریلو ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مقامی سطح پر چھوٹے کاروبار فروغ پاتے ہیں، نئی ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور غربت میں کمی کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اس طرح خواتین کی فنی تربیت سماجی ترقی کیلئے ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔


