اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی فریق کو قانون کے مطابق نوٹس کی تعمیل اور موثر سماعت کا موقع دیے بغیر یکطرفہ فیصلہ جاری نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے جائیداد کی فروخت کے معاہدے پر عمل درآمد کے مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ماتحت عدالت کی کارروائی کالعدم قرار دے دی۔ مقدمہ ازسرنو فیصلے کے لیے ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے غلام مجتبی مرحوم کے قانونی ورثا کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ متبادل طریقے سے نوٹس کی تعمیل کا حکم دینے سے پہلے معمول کے ذرائع سے نوٹس کی کوشش کرنا ضروری ہے۔
مقدمے کے مطابق غلام مجتبیٰ اور غلام مرتضیٰ کے درمیان 30 نومبر 2004 کو جائیداد کی فروخت کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت قیمت 73 لاکھ 12 ہزار 500 روپے طے پائی تھی۔ ٹرائل کورٹ نے مدعا علیہان کی عدم موجودگی میں دو نومبر 2016 کو یکطرفہ فیصلہ جاری کیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ نے 20 فروری 2023 کو متعلقہ درخواست مسترد کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے تمام احکامات کالعدم قرار دے کر فریقین کو 26 اکتوبر 2026 کو متعلقہ ڈسٹرکٹ جج کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹ فریقین کی پہلی پیشی سے چار ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی کوشش کرے۔


