فائل فوٹو
اسلام آباد(این این آئی)سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سید نیئر حسین بخاری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں منتخب نمائندے آئینی طریقہ کار کے مطابق غور و خوض کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔
نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت، آئین کی بالادستی اور پارلیمان کی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے، غیر معمولی حالات میں آئینی دفعات کا استعمال ناگزیر ہو سکتا ہے، تاہم ایسے اقدامات سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ آئینی تقاضوں اور قانونی حدود کے مطابق ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور مبینہ عدم تعاون پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، ان کے مطابق صوبے میں سکیورٹی اداروں، پولیس تھانوں اور عبادت گاہوں پر دہشت گرد حملوں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاجبکہ کئی علاقوں میں عوام خوف و ہراس کے باعث گھروں تک محدود رہنے پر مجبور ہوئے۔
نیئر حسین بخاری نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دراندازی اور حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات قومی سلامتی کے تقاضوں میں شامل ہیں، دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ذمہ دارانہ کردار ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کیں، تاہم مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
نیئر حسین بخاری نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر پارلیمنٹ کو غور و خوض اور مناسب لائحہ عمل طے کرنے کا موقع ملے گا، کسی بھی غیر معمولی اقدام کےلئے آئین کی پاسداری، قانونی تقاضوں اور پارلیمانی عمل کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔


