نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے تمام امیدواروں کو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے کسی ایک کی جانب سے ویٹو کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
رائے معلوم کرنے کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے اختتام پر ساتوں امیدوار پانچ بڑی طاقتوں میں سے کسی کی مکمل حمایت حاصل نہ کر سکے جس سے نئے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا امکان پیدا ہو گیا۔
اب تک چار خواتین اور تین مردوں نے اس عہدے کے لیے امیدواری پیش کی ہے۔ ان امیدواروں کو انتونیو گوتریس کی جگہ لینا ہے جن کی دوسری مدت اکیس دسمبر دو ہزار چھبیس کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن ساتوں امیدواروں کی مخالفت کر رہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے ان رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
انتخاب کے لیے امیدوار کو پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے کم از کم نو ارکان کی حمایت درکار ہے۔ یہ بھی لازم ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے کوئی اسے ویٹو نہ کرے۔
موجودہ عالمی صورت حال میں پانچوں بڑی طاقتیں متعدد معاملات پر شدید اختلافات کا شکار ہیں۔


