نئی دلی (این این آئی)۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نئی دلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو انخلاء کا نوٹس جاری کیے جانے کو غیر قانونی اور غیر دستوری قرار دیا ہے۔
بورڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس نوٹس کو فوری طور پر واپس لے اور مسجد کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے ایک بیان میں اس کارروائی پر شدید احتجاج کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے قدیم اور تاریخی مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ مسجد کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی ہے جبکہ اس کے تاریخی وجود اور قانونی حیثیت کے حق میں سرکاری ریکارڈ میں شواہد موجود ہیں۔
ڈاکٹر الیاس کے مطابق یہ مسجد نئی دلی میونسپل کارپوریشن کی تاریخی عمارتوں کی فہرست میں درج ہے اور وقف ریکارڈ کا حصہ بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اورنگ زیب دور میں قائم ہونے والی اس مسجد کو محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے محفوظ تاریخی یادگار قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حقائق کا جائزہ لے کر مسجد کے خلاف کارروائی سے باز رہا جائے اور وہاں بجلی و پانی کی فراہمی بحال کی جائے۔


