مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی ماحول و توانائی کا منظر؛ مذاکرے یا کسی منظور شدہ منصوبے کی اصل تصویر نہیں۔
اسلام آباد: سی او پی 31 سے پہلے ماہرین نے پاکستان کے موسمیاتی منصوبوں کے لیے قرضوں کے بجائے گرانٹس، قابل عمل پروگراموں اور بین الاقوامی مالی وسائل تک براہ راست رسائی کی سفارش کی ہے۔ اے پی پی کی 22 اکتوبر 2026 کی اصل رپورٹ کے مطابق یہ نکات جمعرات کے آن لائن مذاکرے میں پیش کیے گئے۔
پائیدار ترقی کے پالیسی ادارے، ایس ڈی پی آئی، نے پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن کے تعاون سے پاکستان کی موسمیاتی ترجیحات کے لیے مالی وسائل کے موضوع پر مذاکرہ منعقد کیا۔ ایس ڈی پی آئی کی سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ صالحہ قریشی نے قرضوں کے بجائے گرانٹس اور مزید تشخیصی مطالعات کے ساتھ عملی منصوبوں پر سرمایہ لگانے کی ضرورت بیان کی۔
ماہرین نے سفارش کی کہ مالی وسائل قومی، صوبائی اور مقامی سطح پر عمل درآمد کرنے والے اداروں تک پہنچیں اور منتشر منصوبوں کے بجائے پروگرام کی بنیاد پر معاونت دی جائے۔ یہ مذاکرے میں پیش کردہ تجاویز ہیں؛ کسی نئی امدادی رقم یا فنڈ کی منظوری کا اعلان نہیں۔
تصویری وضاحت: ماحول، دریا اور قابل تجدید توانائی کا منظر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے؛ مذاکرے یا کسی منظور شدہ منصوبے کی اصل تصویر نہیں۔


