فائل فوٹو
کرک کے علاقے میں حمود چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ یہ واقعہ کرک چرچ فائرنگ کے طور پر رپورٹ ہوا۔
اس حملے میں سات افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے۔
اردنی وزیرِ داخلہ مازن الفریایہ نے کہا کہ اس فائرنگ میں انتہا پسند ملوث ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ کسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
وزیرِ اعظم جعفر حسان نے بیان دیا کہ یہ حملہ دہشت گرد نظریے اور اندھی انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس طرح کے تشدد کے خلاف سخت اقدامات کرے گا۔
حکام نے تفتیش جاری ہونے کی اطلاع دی اور عوام سے حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔


