نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک)۔ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سام آلٹمین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے وسیع تر فوائد حاصل کرنے کے لیے دنیا کو اس کے بعض منفی اثرات اور خطرات کو برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔
سام آلٹمین نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بنایا گیا ایسا کوئی ضابطہ قبول نہیں کریں گے جس سے ٹیکنالوجی کی ترقی محدود ہو۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اے آئی کے استعمال سے کچھ نقصان دہ واقعات پیش آ سکتے ہیں لیکن اس کے فوائد ان نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ سام آلٹمین نے اوپن اے آئی اور حریف کمپنی اینتھروپک کے درمیان ضابطوں سے متعلق اختلافات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اوپن اے آئی نرم ضابطوں اور وسیع عوامی رسائی کے حق میں ہے جبکہ اینتھروپک زیادہ محتاط انداز پر زور دیتی ہے۔ سام آلٹمین نے ان تمام خدشات کو مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا ہے کہ جدید اے آئی نظام انسان کے کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔


