اوٹاوا (انٹرنیشنل ڈیسک)۔ کینیڈا سے افراد کی حوالگی کے لیے بھارت کی کوششوں پر توجہ بڑھ گئی ہے۔
کینیڈین سرزمین پر بھارتی مداخلت کے الزامات کے باعث خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کینیڈا میں چھبیس حوالگی کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔ ان میں خالصتانی سرگرمیوں اور بشنوئی نیٹ ورک سے منسلک افراد شامل ہیں۔
دونوں ممالک میں حوالگی کا معاہدہ انیس سو ستاسی سے نافذ ہے۔
یہ تنازعہ جون دو ہزار تئیس میں برٹش کولمبیا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد بڑھا۔ سابق وزیراعظم نے بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے الزامات لگائے تھے۔
بھارت نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کے مطابق تین ستمبر دو ہزار چھبیس تک بے دخلی کے احکامات جاری ہوئے۔ سکھ تنظیموں کو خدشہ ہے کہ یہ درخواستیں سیاسی مخالفین کیلیے استعمال ہوں گی۔
بھارت کا کہنا ہے کہ یہ درخواستیں سنگین جرائم کے ملزموں کیلیے ہیں۔
دونوں ممالک نے سکیورٹی تعاون بحال کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اس کے باوجود قتل کے الزامات اور حوالگی کے مطالبات دوطرفہ تعلقات کیلیے چیلنج ہیں۔


