کراچی (این این آئی) سندھ حکومت نے نبی بخش تھانے کی حدود میں سول ڈیفنس کی عمارت سے 29 افراد کی مبینہ غیر قانونی حراست کے معاملے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ محکمہ انسانی حقوق سندھ کے سیکریٹری خالد چاچڑ نے انکوائری کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
محکمہ انسانی حقوق کے ایڈیشنل سیکریٹری کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ کمیٹی 29 افراد کو حراست میں رکھنے کے حالات اور متعلقہ اداروں کے کردار کا تعین کرے گی۔
انکوائری میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کمیٹی اس امر کی بھی تحقیقات کرے گی کہ سول ڈیفنس کا احاطہ کس بنیاد پر استعمال ہوا۔
گرفتاری کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے ساتھ متعلقہ افسران اور بازیاب افراد کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔ ذمہ داری ثابت ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
دو روز قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے سول ڈیفنس عمارت کے احاطے میں چھاپہ مار کر 29 افراد کو بازیاب کرایا تھا، جن میں کینسر کی مریضہ خاتون بھی شامل تھی۔ بازیاب افراد کی گرفتاری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا، جبکہ بعض افراد کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنائی گئی تھیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کی ہدایت کی تھی۔ انکوائری کمیٹی کو پندرہ روز میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔


