نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں بھارتی پولیس نے نوجوانوں کی زیر قیادت احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ اس کارروائی سے بھارت میں آزادی صحافت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دی انڈیپنڈنٹ نے 13 اکتوبر 2026 کو اپنی رپورٹ میں یہ انکشافات کیے۔ اخبار نے بتایا کہ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مختلف اداروں کے تقریبا تین درجن صحافیوں کو کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
مظاہرین چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹر فہرستوں سے کروڑوں نام خارج کیے گئے۔
پریس کلب آف انڈیا نے پولیس کی اس کارروائی کو آزادی صحافت پر کھلا حملہ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق آزادی صحافت کی درجہ بندی میں بھارت 180 ممالک میں 157 ویں نمبر پر ہے۔
احتجاج کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور بعض رہنماؤں کو عدالتی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔


