پنجاب میں لائف سیونگ ٹریننگ کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار صوبائی وزیر صحت و ایمرجنسی سروسز پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے ورلڈ فرسٹ ایڈ ڈے کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جبکہ سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔
خواجہ سلمان رفیق اور ڈاکٹر رضوان نصیر نے سی پی آر تربیت میں بھی حصہ لیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق ایمرجنسی سروسز کی استعداد کو نیکسٹ لیول پر لے جایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 پاکستان میں عالمی معیار کی ایمرجنسی سروس کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہے، جبکہ ورلڈ فرسٹ ایڈ ڈے کا مقصد ابتدائی امداد کی اہمیت اجاگر کرکے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب بھر میں شہری بنیادی لائف سیونگ اور سی پی آر کی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ایمبولینس پہنچنے سے پہلے تربیت یافتہ شہری فرسٹ ایڈ فراہم کرکے قیمتی جان بچا سکتے ہیں، کیونکہ ایک ایک سیکنڈ انسانی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ ایڈ ٹریننگ کے ذریعے پوری قوم کو لائف سیونگ کے قافلے میں شامل کرنا ہے اور کمیونٹی کو اداروں کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
خواجہ سلمان رفیق نے ریسکیو 1122 کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مریضوں کی منتقلی، فائر فائٹنگ، فلڈ رسپانس اور دیگر ہنگامی صورت حال میں جان کی پرواہ کیے بغیر انسانی جانیں بچا رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ زندگی بچانے کے اس مشن میں ریسکیو 1122 کا ساتھ دیں۔
سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ ریسکیو 1122 عالمی معیار کی ایمرجنسی سروس بن چکی ہے اور اب تک دو کروڑ سے زائد افراد کو ریسکیو کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے نے اقوام متحدہ کی انساراگ (INSARAG) سرٹیفیکیشن حاصل کرکے پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کیا ہے۔
ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق ریسکیو 1122 کی عالمی معیار کی فائر سروس تقریباً تین لاکھ فائر ایمرجنسیز پر رسپانڈ کر چکی ہے، جبکہ بروقت کارروائیوں سے 800 ارب روپے سے زائد کے مالی نقصانات بچائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کے تعاون کے بغیر زندگیوں اور عمارتوں کو بچانے کا مشن مکمل نہیں ہوسکتا، اس لیے ہر شہری کو سیفٹی ریگولیشنز پر عمل کرتے ہوئے لائف سیونگ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ پاک لائف سیور ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے لائف سیور بنیں اور پاکستان کو نیشن آف لائف سیورز بنانے کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔


