لاہور: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے، جہاں تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی قیادت کی نمائندگی موجود ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ میں اس معاملے پر اپنی پالیسی واضح کرے گی اور پارلیمانی فیصلہ تمام جماعتوں کو قبول کرنا ہوگا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ ایسے فورم پر زیر بحث آنا چاہیے جہاں اس کا نتیجہ نکل سکے، اور وہ فورم پارلیمنٹ ہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب اور وفاق میں اقتدار میں ہے، اس لیے وہ صرف سیمینارز یا اقتصادی فورمز کی کارروائیوں پر اپنی پالیسی جاری کرنے کی پابند نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ معاملہ سندھ اسمبلی میں اٹھانا ایک سیاسی اقدام تھا، جس سے اسے سیاسی فائدہ بھی حاصل ہوا۔ تاہم صوبہ بننا ہے یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق پارلیمنٹ ہی کرے گی۔
ریفرنڈم سے متعلق سوال پر مشیر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نئے صوبوں کے معاملے پر اپنی مرضی سے ریفرنڈم نہیں کرا سکتی۔ وفاقی کابینہ میں اب تک اس معاملے پر باضابطہ بات نہیں ہوئی، جبکہ ریفرنڈم کا فیصلہ ہونے کی صورت میں پہلے کابینہ میں بحث ہوگی اور اس کے بعد وزیراعظم مناسب فیصلہ کریں گے۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 کے تحت ریفرنڈم کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نئے صوبوں کے قیام کے حق میں ہوں تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا، تاہم نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کے آئینی طریقہ کار کے تحت ہی ہوگا۔
اتحادی حکومت کے معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت چلانے سے متعلق مفاہمت موجود ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی میں کمی آئی ہے اور باہمی تحفظات دور کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
جماعت اسلامی کے 20 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت اسے پرامن سیاسی احتجاج سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات میں اس کے مطالبات غور اور سنجیدگی سے سنے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے کی خواہش مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم کی بھی ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں بجلی کے بل کم کرنے، لوڈشیڈنگ میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے لانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔


