وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری کی زیر صدارت انفارمیشن اسٹیئرنگ و ریویو کمیٹی کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پنجاب میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد، پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات پنجاب سید طاہر رضا ہمدانی اور متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
سیکرٹری اطلاعات نے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں ہونے والی پیش رفت اور مختلف اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو محکمہ جاتی رابطہ کاری، ذمہ دارانہ معلومات کی فراہمی اور گمراہ کن بیانیوں کے بروقت تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں ڈس انفارمیشن، نفرت انگیز مواد، منفی پروپیگنڈے اور ریاست مخالف بیانیے کے تدارک کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ڈس انفارمیشن اور منفی بیانیوں کا مقابلہ محض ردعمل کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے بروقت، حقائق پر مبنی، مربوط اور فعال حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان کے مقاصد کے حصول کے لیے محکمہ اطلاعات و ثقافت نے مؤثر اور متحرک کردار ادا کیا ہے، جبکہ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی کامیابیوں اور قومی بیانیے کو بھی مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن اور منفی مواد کے باعث نوجوان اور طلبہ خصوصی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے ان میں میڈیا لٹریسی اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں سکول کونسلنگ اور دیگر متعلقہ فورمز کو مؤثر طور پر شامل کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال، جعلی اور گمراہ کن معلومات کی شناخت اور حقائق کی جانچ کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے۔ طلبہ میں تنقیدی سوچ اور میڈیا لٹریسی کی صلاحیتیں پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مستند معلومات اور جعلی و من گھڑت مواد میں فرق کر سکیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ڈس انفارمیشن، نفرت انگیز تقاریر اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کریں گے، جبکہ اس مقصد کے لیے باہمی رابطہ کاری اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔


