لاہور (بیورو رپورٹ، صورتِ حال، ڈیسک) پاکستان کی سابق سفیر اور سینئر سیاستدان بیگم عابدہ حسین نے انکشاف کیا ہے کہ 1991 میں امریکہ کی جانب سے ایٹمی پروگرام ترک کرنے کے لیے شدید دبا ئواور رشوت کی پیشکش کی گئی جسے مسترد کر کے ایٹمی پروگرام مکمل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایٹمی پروگرام مکمل کرنے کیلئے امریکہ کو 18 ماہ الجھائے رکھا گیا اور اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے انہیں یہ خصوصی ٹاسک دیا تھا۔ بیگم عابدہ حسین نے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ 1991 سے 1992 تک امریکہ میں بطور سفیر تعیناتی کے دوران پاکستان کا جوہری پروگرام تکمیل کے مراحل میں تھا۔ انہوں نے کامیابی سے اپنی مدت پوری کی اور ان کی وطن واپسی کے 6 ماہ بعد پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل ہو چکا تھا۔ ایف 16 طیاروں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے طیاروں کی ادائیگی کر رکھی تھی جسے جوہری پروگرام کی وجہ سے روک لیا گیا تھا تاہم دو ٹوک مؤقف اپنانے کے بعد بالآخر پاکستان کو وہ رقم واپس مل گئی تھی۔ موجودہ پاک امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امداد کا سلسلہ بند ہونے اور لین دین نہ رہنے کے بعد اب دونوں ممالک کے تعلقات برابری اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر زیادہ متوازن ہو چکے ہیں۔


