اے آئی کی تیار کردہ علامتی تصویر
(لاہور، بیورو رپورٹ) پنجاب کے وزیر تعمیرات و مواصلات ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت بلڈنگز ونگ کا اجلاس ہوا، جس میں بلڈنگز ونگ کی اڑھائی سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ پنجاب حکومت کے تعلقات عامہ کے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو راجہ جہانگیر انور، ایڈیشنل سیکرٹری، اسپیشل سیکرٹری، چیف انجینئرز بلڈنگز اور دیگر افسران شریک ہوئے۔
ہینڈ آؤٹ کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں صوبے بھر میں 38 محکموں کی تین ہزار سے زائد عمارتوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا گیا۔ صحت، تعلیم اور عوامی تحفظ کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے، جبکہ پولیس اور جیلوں کی اسکیمیں بھی مکمل کی گئیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 1740 بنیادی مراکز صحت کی ری ویمپنگ اور 28 بڑے ٹرشری کیئر ہسپتالوں کی ری ویمپنگ مکمل کی گئی۔ اس کے علاوہ 22 اسپیشل ایجوکیشن سنٹرز کا انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا، اسٹیٹ آف دی آرٹ آٹزم اسکول کے جدید انفراسٹرکچر کو مکمل کیا گیا اور 50 اسمارٹ پولیس اسٹیشن بنائے گئے۔
ہینڈ آؤٹ کے مطابق 22 عدلیہ کی اسکیمیں مکمل کی گئیں جبکہ صوبے بھر میں 1033 عمارتوں کی سیفٹی اسسمنٹ بھی کی گئی۔ اجلاس میں دعویٰ کیا گیا کہ ای ٹینڈرنگ کے باعث بلڈنگز ونگ نے 40 ارب روپے کی بچت کی۔
ملک صہیب احمد بھرتھ نے کہا کہ بلڈنگز ونگ کی اڑھائی سالہ کارکردگی کے دوران بڑے منصوبوں کے فن تعمیر کی ڈیزائننگ آرکیٹیکچر نے کی۔ انہوں نے بلڈنگز ونگ کو سالانہ رپورٹ باقاعدگی سے جاری کرنے اور محکمے کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے جامع منصوبہ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔


