اے آئی کی تیار کردہ علامتی تصویر
کراچی (صورتِ حال، بزنس ڈیسک) سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان نے گندم کی ممکنہ قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشے کے پیش نظر نجی شعبے کی گندم درآمد کی فوری اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم کی درآمد کے لیے ٹینڈر کھولا، جس میں 9 بین الاقوامی کمپنیوں نے حصہ لیا۔ مجموعی طور پر 6 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن گندم کے لیے پیشکشیں موصول ہوئیں، جن کی قیمتیں 348.83 سے 369.95 ڈالر فی میٹرک ٹن کے درمیان رہیں۔
ایسوسی ایشن نے ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذریعے گندم درآمد کرنے کی حکومتی کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم ملک کی مجموعی ضرورت کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ اس کے مطابق پاکستان کی سالانہ گندم کی ضرورت تقریباً 4 کروڑ میٹرک ٹن ہے، اس لیے قلت سے بچنے اور مقامی مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنانے کے لیے مزید فراہمی ضروری ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں گندم اس وقت تقریباً 320 سے 325 ڈالر فی میٹرک ٹن دستیاب ہے۔ مال برداری، مقامی اور دیگر درآمدی اخراجات کے باوجود نجی شعبہ تقریباً 100 سے 101 روپے فی کلوگرام کے حساب سے گندم فراہم کر سکتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت پہلے ہی تقریباً 125 سے 130 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ قیمت تقریباً 140 روپے فی کلوگرام ہے۔ اس نے کہا کہ موجودہ صوبائی کوٹہ نظام ممکنہ قلت دور کرنے کے لیے کافی نہیں۔
سیریل ایسوسی ایشن نے کہا کہ نجی شعبے کی گندم درآمد کی اجازت سے اوپن مارکیٹ میں رسد بڑھنے اور قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔ اس کے بانی و چیئرمین مزمل رؤف چپل نے حکومت اور متعلقہ قائمہ کمیٹی سے فوری اجازت دینے کا مطالبہ کیا تاکہ بروقت ذخائر قائم کیے جا سکیں اور صارفین کو مزید قیمتوں میں اضافے سے تحفظ مل سکے۔


