نیویارک (صورتِ حال، انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک ماہر نے منشیات اسمگلنگ کے شبے میں کیریبیئن سمندر اور بحرالکاہل میں ہونے والے امریکی بحری حملوں کو بین الاقوامی قانون اور زندگی کے حق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی اور انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے بین سول کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران امریکا نے بین الاقوامی پانیوں میں 68 کشتیوں کو نشانہ بنایا، جن میں کم از کم 223 افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ان کارروائیوں کو منشیات کے دہشت گردوں کے خلاف دفاعی اقدام قرار دیا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا کہ یہ کارروائیاں دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کے ساتھ مسلح تنازع کی عکاسی کرتی ہیں۔ تاہم، رپورٹ میں اس موقف کو مسترد کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ مسلح حملے کی قانونی تعریف پر پورا نہیں اترتی، اس لیے امریکا کو اس بنیاد پر طاقت کے استعمال یا دفاع کا حق حاصل نہیں۔ اس کے مطابق کشتیوں کو روکنے سمیت کم مہلک متبادل طریقے بھی دستیاب تھے۔
اقوام متحدہ کے ماہر نے کہا کہ امریکی بحری حملے شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں، جس کے تحت مہلک طاقت صرف فوری خطرے کی صورت میں آخری اقدام کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں ہلاکتوں کی تحقیقات، ذمے دار افراد اور سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف کارروائی، نیز متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ نے منشیات اسمگلنگ روکنے میں ان کارروائیوں کی افادیت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ اس کے مطابق امریکی سرحد پر کوکین کی ضبطی میں نمایاں کمی نہیں آئی اور خطے میں بڑی مقدار میں کوکین چھوٹی کشتیوں کے بجائے کنٹینر بردار بحری جہازوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں سے فینٹانائل اور دیگر اوپیئڈز کی اسمگلنگ پر بھی کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔ اقوام متحدہ کے ماہر نے کہا کہ کم سطح کے مشتبہ افراد کو ہلاک کرنے سے منشیات کے بڑے نیٹ ورکس اور ان کے سرغناوں کے خلاف کارروائی کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 کے وسط تک ان فوجی کارروائیوں پر تقریباً 4.7 ارب ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔


