اسلام آباد (بیورو رپورٹ) عالمی مالیاتی فنڈ نے شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ نے مرکز کی شوگر پالیسی کو صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے مذاکرات بھی جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق سندھ کے اختلاف کی وجہ سے شوگر پالیسی طے نہیں ہو سکی ہے۔ آئی ایم ایف مشن کی وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ پھر ملاقات ہوگی۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے آٹو پالیسی میں ای ویز پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
آئی ایم ایف صارفین کو وزیراعظم فیول سبسڈی دینے پر راضی ہو گیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول سبسڈی میں مزید صارف نہ بڑھائے جائیں۔
فیول سبسڈی چھوٹی گاڑیوں تک ہی محدود رکھی جائے۔


