سرینگر (خبر نگار) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطہ لداخ کے علاقے کارگل میں ہائی کورٹ کے بنچ کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ کارگل بار ایسوسی ایشن نے سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کے ہمراہ احتجاجی مارچ کیا۔
بار ایسوسی ایشن نے انتظامیہ کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاج میں لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی حنیفہ جان، کونسلرز، وکلا اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ٹی ایف سی کارگل سے لال چوک تک مارچ کیا اور انصاف کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے حق میں نعرے لگائے۔
مارچ سے قبل پریس بریفنگ میں مقررین نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے صرف لہہ میں ہائی کورٹ بنچ کی منظوری امتیازی فیصلہ ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ کارگل کے سائلین اور وکلا کو لہہ تک طویل اور مہنگا سفر کرنا پڑتا ہے۔ لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی حنیفہ جان نے کہا کہ صرف لہہ میں بنچ کے قیام سے کارگل کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔
کارگل کے چیف ایگزیکٹو کونسلر ڈاکٹر جعفر اخون نے بھی بار ایسوسی ایشن کے مطالبے کی حمایت کا اعلان کیا۔ سجاد کارگلی، سید علی موسوی اور ایڈووکیٹ ریاض احمد سمیت دیگر رہنماؤں نے جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔


