لاہور(بیوروچیف)پاکستان کی صنعتیں تباہ ہو چکیں”، پاکستان کی ایکسپورٹ آمدن میں انتہائی تشویش ناک کمی ہو جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ "دسمبر میں پاکستان کی ایکسپورٹس آمدن 2.3 ارب ڈالر رہیں، پچھلے سال دسمبر میں یہی ایکسپورٹس 2.9 ارب ڈالرز تھیں۔ایکسپورٹس کی کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی صنعتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں تجارتی خسارہ 19.2 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔” واضح رہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ انتہائی تشویشناک 19 ارب ڈالرز سے تجاوز کر گئی، رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں تجارتی خسارہ بے قابو ہو جانے سے حکومتی کے معاشی بہتری کے دعووں پر سوالیہ نشان لگ گیا ۔دستاویز کے مطابق برآمدات میں رواں مالی سال کے چھ ماہ میں 8.7فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، چھ ماہ میں درآمدات میں 11.28فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی ششماہی میں 15ارب 18کروڑ ڈالر سے زیادہ کی برآمدات ہوئیں، چھ ماہ میں درآمدات 34ارب 38کروڑ ڈالر سے زیادہ کی ریکارڈ کی گئیں۔ دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں ساڑھے 16ارب ڈالر کی برآمدات تھیں، اسی عرصے میں 30ارب 90کروڑ ڈالر سے زیادہ کی درآمدات تھیں۔گزشتہ سال دسمبر کی نسبت رواں مالی سال دسمبر میں برآمدات میں 20فیصد کمی جبکہ درآمدات میں 2فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب چھوٹے تاجروں نے سال 2025 کو ملکی تاریخ کا بدترین سال قرار دیتے ہوئے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 2025 میں تجارتی سرگرمیاں 60 فیصد سے بھی کم رہیں، سیاسی عدمِ استحکام نے معاشی بحران کو جنم دیا، مستقبل سے مایوسی اور غیریقینی صورتحال سے مقامی مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا اور نئے تجارتی اور صنعتی یونٹس قائم نہ ہوسکے۔آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 تالہ بندی کا سال رہا۔ لاتعداد صنعتوں اور کاروبار کی بندش سے بیروزگاری میں ہولناک اضافہ ہوا، سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا رحجان بڑھ گیا۔ مسلسل بڑھتی ہوئی ہولناک اور ناقابلِ برداشت مہنگائی نے 2025 کو غریب اور متوسط طبقے کیلئے ڈرانا خواب بنادیا۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے دعویدار صنعت و تجارت کو دیوالیہ ہونے سے نہ بچاسکے، 2025 میں سرکاری شعبوں کی کارکردگی بدترین رہی اور عاقبت نااندیش اور غفلت میں ڈوبے حکمرانوں نے بیرونی سرمایہ کاری کے نام سے 35غیرملکی دورے کیئے۔لیکن ایک دھیلہ بھی نہ آیا بلکہ مقامی سرمایہ بھی بیرونِ ملک منتقل ہوتا رہا۔ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش اور حکمت عملی نظر نہیں آئی، 2026 میں بھی دور دور تک مشکلات کے خاتمے اور بہتری کی امید نظر نہیں آرہی۔ آل کراچی تاجر اتحاد کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈالر کی ناقابلِ برداشت قیمتوں اور مصنوعی مہنگائی کی روک تھام نہ ہونے کے نتیجے میں معیشت مسلسل زوال پذیر اور ضروریات زندگی کی اشیا غریب و متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔تاجروں کے کسی بھی سیل سیزن پر مارکیٹوں میں روائیتی رونقیں، گہما گہمی اور خریداری دیکھنے میں نہ آسکی۔ حکمران مہنگائی میں کمی اور معاشی بحالی کے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے مصنوعی اور گمراہ کن اشاریوں سے عوام کا دل بہلاتے رہے، اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر تجارت پست ترین درجے پر رہی۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر نے کہا کہ دال، گھی دودھ، گوشت، سبزیاں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا رہا۔دوسری جانب گزشتہ مالی سال 25-2024 کے نظرثانی شدہ معاشی اعداد و شمار جاری کردئیے گئے۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت کے مجموعی حجم میں 761 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،گزشتہ مالی سال معیشت کا حجم 113.93 کھرب روپے رہا،پہلے معیشت کے حجم کا تخمینہ 114.69 کھرب روپے لگایا گیا تھا، امریکی ڈالرمیں ملکی معیشت کامجموعی حجم 407.9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، اکتوبر میں ملکی معیشت کا تخمینہ 407.2 ارب ڈالرزتھا۔دستاویز کے مطابق گزشتہ سال مقامی کرنسی میں فی کس آمدن بڑھ کر 5 لاکھ 6 ہزار736 روپے ہوگئی، اس سے پہلے سالانہ فی کس آمدن کا تخمینہ 5 لاکھ 6 ہزار 188 روپے تھا،امریکی ڈالر میں فی کس آمدن 1824 سے کم ہوکر 1814 ڈالر رہی،2023 کی مردم شماری کے بعد فی کس آمدن کے اعدادوشمار میں نظرثانی ہوگی،آبادی کے نئے تخمینوں پر گزشتہ 10 سال میں فی کس آمدن کا ڈیٹا دوبارہ مرتب ہوگا۔


