
ججی اور گھنٹہ گھر کی رفاقت کے پچاس برس
محمد اعجاز عرف ججی 1976 کے اوائل سے چوک گھنٹہ گھر میں اسی طرح سائیکل پر اخبارات سجائے پرنٹ میڈیا کی افادیت بیان کرتے ہوئے ایک ہی جگہ پر اپنا سٹال لگائے بیٹھا ہے ۔ سردی ہو یا گرمی ، تیز دھوپ ہو یا آندھی اور طوفان ، محمد اعجاز ججی گھنٹہ گھر کے مقابل چوک میں موجود ہے ۔ بلاشبہ موجودہ دور میں شہر کے کسی بھی صحافی سے زیادہ صحافت کا علم رکھنے والا ججی ہے کہ جس نے موسموں کی بے ثباتی شہر میں اٹھنے والی ہر تحریک کو ناصرف اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ ان تحریکوں کا حصہ بنتے ہوئے یہ بھی محسوس کیا کہ ہر تحریک کے پس پردہ عوامل اور محرکات کیا ہیں ۔ بھٹو دور کی جمہوریت کے خاتمے اور مارشل لا کے جبرواستبداد ، لسانی ،مذہبی ، علاقائی ، اور ہر مکتبہ فکر کی تحریک کے آغاز اور انجام کا عینی شاہد ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی فورم پر اس کا نقطہ نظر دوسرے کسی بھی تجزیہ کار سے کم نہیں ہوگا ۔ صحافت میں آنے والے کہ جن کا تعلق خواہ پرنٹ میڈیا سے ہو یا الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے ، چوک گھنٹہ گھر میں اخبار فروشی کا سٹال لگائے محمد اعجاز عرف ججی سے ضرور استفادہ حاصل کرنا چاہیے ۔


