گوادر نارتھ فری زون میں کام کرنے والی چینی کمپنی ہینگینگ نے اکیاسی ٹن گدھے کا گوشت، ہڈیاں اور کھالیں چین برآمد کر دی ہیں۔ تین کھیپوں پر مشتمل یہ برآمدات پانچ اکتوبر کو روانہ کی گئیں۔
ہر کھیپ کا وزن ستائیس ٹن تھا۔ کمپنی کے مطابق تمام کھیپیں مقررہ معیار اور کسٹم کلیئرنس کے بعد چین بھیجی گئیں۔
ہینگینگ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گدھے کا تمام گوشت منجمد حالت میں بحری جہازوں کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ گوادر فری زون میں قائم کارخانے میں سخت ضابطہ جاتی نگرانی کا نظام نافذ ہے۔
اس نظام کے تحت تیار کردہ مصنوعات کی ترسیل صرف ہوائی یا بحری راستوں سے کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد اشیا کو پاکستان کی مقامی منڈی میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔
گدھوں کے گوشت اور کھالوں کی پروسیسنگ کے لیے پاکستان کا پہلا جدید مذبح خانہ گزشتہ سال مکمل کیا گیا۔ اس منصوبے پر تقریباً پانچ کروڑ ڈالر لاگت آئی۔
اس کی تعمیر میں چینی قیادت اور سرمایہ کاری نے اہم کردار ادا کیا۔ چین میں گدھے کے گوشت اور کھالوں کی نمایاں طلب پائی جاتی ہے۔
گدھے کی کھالیں روایتی چینی ادویاتی مصنوعات ای جیاو کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ پاکستان گدھوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔
یہاں تقریباً اٹھاون لاکھ گدھے موجود ہیں۔ یہ برآمدات پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کے لیے اہم پیشرفت ہیں۔


