وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ریسٹورنٹس کے خلاف ماحولیاتی کارروائی جاری ہے۔ لاہور میں محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کی EPA فورس نے دھوئیں کے اخراج کی روک تھام کے لیے متعدد ریسٹورنٹس کو سَکشن ہُڈ کی عدم تنصیب، غیر مؤثر نظام اور ماحولیاتی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا۔
استاد جی تکہ، جی ٹی روڈ باغبانپورہ، حافظ BBQ اینڈ ریسٹورنٹ، پاکستان منٹ جی ٹی روڈ، کنگ خان فیملی ریسٹورنٹ اور حاجی عبدالرحمن ریسٹورنٹ کے خلاف سَکشن ہُڈ نصب نہ ہونے پر کارروائی کی گئی۔
یاسر بروست ریسٹورنٹ کو سرکاری سیل توڑ کر دوبارہ کھولنے پر دوبارہ سیل کر دیا گیا، جبکہ مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔ کراچی چٹخارہ ریسٹورنٹ میں سَکشن ہُڈ موجود ہونے کے باوجود مؤثر طور پر فعال نہ ہونے پر یونٹ سیل کیا گیا۔
خان برگر اینڈ BBQ کے BBQ سیکشن کو سَکشن ہُڈ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا گیا، جبکہ موقع پر Eco Watch بھی فعال کیا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تمام ریسٹورنٹس میں دھوئیں کے اخراج کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے سَکشن ہُڈز اور متعلقہ ڈکٹس کے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ سَکشن ہُڈ اور ڈکٹنگ کے مؤثر نظام کے بغیر BBQ یا دھوئیں والے سیکشنز چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے، سیلنگ اور دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی، کیونکہ ریسٹورنٹس سے نکلنے والا دھواں شہریوں کی صحت اور فضائی معیار کو متاثر کرتا ہے۔ مریم اورنگزیب کے مطابق صاف ہوا شہریوں کا بنیادی حق ہے اور آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
8 ستمبر کو پنجاب بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 335 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا گیا۔ خلاف ورزی پر 27 بھٹے مسمار، 6 سیل، 6 مقدمات درج اور 10 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
صنعتی آلودگی کے خلاف 202 صنعتی یونٹس کی چیکنگ کے دوران 14 یونٹس سیل، ایک ایف آئی آر درج اور 11 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ پلاسٹک آلودگی کے خلاف کارروائی میں 1,335 کلوگرام پلاسٹک ضبط، 4 احاطے سیل اور 24 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اڑتی دھول کے تدارک کے لیے 6 یونین کونسلز میں کارروائی کرتے ہوئے خلاف ورزی پر 6 نوٹسز جاری کیے گئے۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب حکومت بھٹوں، صنعتی یونٹس، پلاسٹک، ریسٹورنٹس اور اڑتی دھول سمیت آلودگی کے تمام بڑے ذرائع کے خلاف بیک وقت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی فرد، ادارے یا کاروباری یونٹ کو رعایت نہیں دی جائے گی، جبکہ صاف ہوا اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے مانیٹرنگ، انسپیکشن اور قانونی کارروائی مزید مؤثر بنائی جائے گی۔


