قومی خبریں ڈیسک — وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ غیر سنجیدہ تھا اور صوبائی قیادت نے سیاسی مفادات کو ترجیح دی۔
وزیر قانون نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 مخصوص حالات میں غیر معمولی اقدامات کی اجازت دیتے ہیں۔ صوبے میں دہشت گردی کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2024 تک 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے قومی مفادات کو مقدم رکھنا آئینی تقاضا ہے۔ سزا یافتہ افراد کی رہائی کا سب سے اہم فورم عدالت ہے اور سیاسی مسائل کا حل مکالمے میں ہے۔


