اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں و جواہرات کے پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات میں تعطل پر اظہار برہمی کیا ہے۔
وزیراعظم نے ترجیحی بنیادوں پر معینہ مدت کے ساتھ لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں اور منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
بدھ کو وزیراعظم کی زیر صدارت قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے کی ترقی اور ان کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی ترقی کے حوالے سے اقدامات ترجیح ہیں اور کسی قسم کی سست روی قبول نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کان کنی اور تراش خراش سے ویلیو ایڈیشن کا ایک پورا ایکو سسٹم تیار کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ غیر معیاری طریقے سے کان کنی اور اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔
انہوں نے خطے کے دیگر ممالک کی طرح برانڈ پاکستان پر کام کرنے اور ویلیو ایڈیشن کیلئے سینٹرز آف ایکسیلینس کے جلد قیام کا لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو پائلٹ پراجیکٹس اور ماڈل مائنز کی تعمیر پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بتایا گیا کہ حسین آباد سکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس منصوبے کیلئے زمین منتقل ہو چکی ہے اور تعمیر جلد شروع ہو گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں منصوبے کیلئے زمین کی نشاندہی ہو چکی ہے۔
اس سال شعبے کی ترقی کے لئے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ کی مد میں ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے 7 شہروں کے 10 بینکوں کی 80 شاخوں میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے آئندہ ہفتے قیمتی پتھروں و جواہرات کیلئے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا جامع لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔


