نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں جاری جین زی اور اپوزیشن اتحاد کا احتجاج بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ایک امریکی اخبار نے لکھا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی آہنی گرفت اب ڈھیلی پڑ رہی ہے۔
نوجوانوں نے سب سے بڑا طوفان کھڑا کر دیا ہے اور مودی کی ناقابلِ شکست تصویر دھندلا رہی ہے۔
ایک اور امریکی اخبار نے چھاپا کہ دس کروڑ ووٹر غائب ہیں اور احتجاج پر کریک ڈان کیا جا رہا ہے۔ اخبار نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ جمہوریت کا خاتمہ ہے اور لکھا کہ مودی کے دبانے کے باوجود نوجوان چپ نہیں رہیں گے۔
دی اکنامسٹ نے تبصرہ کیا کہ بارہ سال کے بعد مودی کو جین زی نے آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق پولیس مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے اور صحافیوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ ٹائم میگزین نے لکھا کہ بھارت میں انتخابی شفافیت پر گہرا سایہ ہے اور فوری اصلاحات ضروری ہیں۔
نئی دہلی میں پولیس کریک ڈان کے دوران سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
سکیورٹی فورسز نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں کو بند کر دیا۔ یہ احتجاج ووٹر لسٹوں کی ترامیم کے خلاف تھا جن سے حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔


