راولپنڈی (صورتِ حال، نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وکلا پیشہ ورانہ وقار اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کو ترجیح دیں۔ ان کے مطابق وکیل کا یونیفارم اس کی شخصیت کا حصہ ہے اور یونیفارم کی عزت میں ہی وکیل کی عزت ہے۔
وہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں وکلا سے خطاب کر رہے تھے۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت اور وکلا کا رشتہ حکومتوں اور وزارتوں کا نہیں بلکہ پیشہ ورانہ وابستگی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بار کی سیاست کو قومی سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کے بقول سیاست اور سیاسی وابستگی ہر شخص کا آئینی حق ہے، تاہم بار اور وکلا کے معاملات میں پیشہ ورانہ مفادات اور وقار کو مقدم رکھا جائے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پی ڈی ایم کے دور حکومت میں لائرز پروٹیکشن ایکٹ بنایا گیا، جبکہ وفاقی حکومت نے بار کونسلز کی سالانہ گرانٹ بڑھا کر 80 کروڑ روپے کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بھی صوبائی بارز کی گرانٹ دوگنا کرکے ایک ارب روپے تک کر دی ہے۔
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئین کی تشریح کے معاملات آئینی عدالت کے سپرد کر دیے گئے ہیں، جبکہ 27ویں ترمیم میں عدالتوں کے دائرۂ سماعت کو واضح کیا گیا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کچہری چوک کی ری ڈیزائننگ کے معاملات حل ہو چکے ہیں اور آئندہ ہفتے ہائیکورٹ بار کے اکاؤنٹ میں دو کروڑ روپے منتقل کیے جائیں گے تاکہ زیر تکمیل منصوبے مکمل کیے جا سکیں۔ قبل ازیں انہوں نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں نئے تعمیر شدہ ہالز کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر سعید یوسف خان نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح کی قانون سازی میں بار کے کردار کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے دور دراز علاقوں سے آنے والے وکلا کے لیے ای فائلنگ کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔


