تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی کمپنیوں نے اشتہارات کے ذریعے عرب میڈیا کے صحافیوں کے فونز اور کمپیوٹرز ہیک کر لیے ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سائبر ریسرچ ادارے سٹیزن لیب نے انکشاف کیا ہے کہ سال دو ہزار چوبیس اور دو ہزار پچیس کے دوران اسرائیلی ایڈورٹائزنگ فرم نے عام اشتہارات کے ذریعے زیرو کلک جاسوسی کا جال بچھایا۔
عرب ٹی وی کی ٹیکنیکل ٹیم نے دو ہزار چوبیس میں سسٹم میں غیر معمولی سرگرمی دیکھ کر سٹیزن لیب کو تحقیقات کے لیے بلایا تھا۔ عرب ٹی وی نے اسے پریس فریڈم پر حملہ قرار دیتے ہوئے مکمل آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
حملے کے لیے صحافیوں کو کسی لنک پر کلک کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اور عام اشتہار آتے ہی اسپائی ویئر ڈیوائس میں گھس گیا۔ ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کو ایڈ فکشن کا نام دیا ہے اور دنیا میں پہلی بار آن لائن اشتہارات کو ہتھیار بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عرب ٹی وی کے کم از کم پینتالیس صحافیوں اور اسٹاف کے کمپیوٹرز میں وائرس داخل ہوا۔ ہیکرز کو تمام فائلز، دستاویزات، ای میلز، پاس ورڈز، کی بورڈ ٹائپنگ، اسکرین شاٹس، مائیک، کیمرے اور واٹس ایپ تک رسائی مل گئی۔
تحقیق میں انکشاف ہوا کہ یہ جاسوسی اشتہارات ایک لاکھ بیس ہزار ویب سائٹس اور پتر ہزار موبائل ایپس پر چلائے گئے۔ نشانہ بننے والوں میں نیٹو، اقوام متحدہ، پینٹاگون، یورپی کمیشن اور عالمی عدالت انصاف بھی شامل ہیں۔
گوگل نے ڈسکور ٹیک کو پالیسیوں کی خلاف ورزی پر بلیک لسٹ کر دیا ہے جبکہ یورپی اشتہاری ادارے نے بھی اسے معطل کر دیا ہے۔


