بین الاقوامی ڈیسک (قاہرہ) کے مطابق مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے اعلان کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے درخواست کی تو مصر حوثی ملیشیا کے حملوں کے خلاف مملکت کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
مصری ملٹری اکیڈمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مصر خاموش نہیں رہ سکتا۔
صدر السیسی نے واضح کیا کہ سعودی قیادت کی درخواست پر دفاعی تعاون کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے لیے ملک کی پارلیمنٹ کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگی۔
مصر 2015 میں یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد میں شامل ہوا تھا تاہم اس کا کردار زیادہ تر بحیرہ احمر میں بحری راستوں کے تحفظ تک محدود رہا ہے۔
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے مطابق سنہ 2023 میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع ہونے کے بعد سے نہر سوئز کو تقریبا گیارہ ارب ڈالر کی آمدنی کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔


