کوئٹہ: سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت پنجگور کے علاقے کلی سوران میں کارروائی کرتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ کئی دہشت گرد زخمی بھی ہوئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر بڑی دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے بعد بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق دہشت گردوں سے 3 گاڑیاں، 2 موٹر سائیکلیں، آئی ای ڈی ڈیوائس اور کالعدم تنظیم کا جھنڈا بھی برآمد ہوا۔ ہلاک دہشت گردوں پر مقامی افراد سے لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب اہلخانہ کے مطابق تربت کے علاقے بلیدہ کے گلی باہوٹ بازار سے امام ولد حسن کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔ اہلخانہ نے تربت پریس کلب میں بتایا کہ 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 مسلح افراد امام ولد حسن کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ امام حسن کا کسی سے کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی نہیں اور وہ ایک سادہ طبیعت کے بے قصور شہری ہیں۔ واقعے کے بعد خاندان شدید خوف اور کرب میں مبتلا ہے۔ امام حسن کی اہلیہ نے حکام سے شوہر کی جلد بازیابی اور اغوا میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


