فیصل آباد (صورتِ حال، بزنس ڈیسک) ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن فیصل آباد یاسر عمر نے کہا ہے کہ بانس انڈسٹری کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ملک میں بانس کی 1200 سے زائد اقسام کاشت کر کے فرنیچر انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بانس اور اس کی مصنوعات کی تجارتی پیمانے پر تیاری سے برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
یاسر عمر نے ایک بیان میں کہا کہ مستقبل میں بانس کی ضرورت میں مزید اضافہ ہو گا اور پاکستان میں اس کی پیداوار کے لیے زمینی و موسمی وسائل سازگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان وسائل سے استفادہ کر کے مالی منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشینی انقلاب کے ذریعے بانس انڈسٹری کے کاروباری امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔ ان کے بقول بانس گھاس کے طور پر اگایا جاتا ہے اور اسے دنیا کی بلند ترین گھاس کی فصل کا اعزاز حاصل ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن نے کہا کہ مؤثر مارکیٹنگ نظام نہ ہونے کے باعث بانس کی فصل کو زیادہ منافع بخش فصل کے طور پر کسانوں میں مطلوبہ حد تک متعارف نہیں کرایا جا سکا۔ انہوں نے تمام صوبوں میں فاریسٹری سے متعلق اداروں کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت ملک کا صرف ایک فاریسٹری کالج قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانس کو فرنیچر سازی کے علاوہ پلپ اور پیپر انڈسٹری کے لیے خام مال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بانس سے گارمنٹس، دستکاریاں، مشروبات، چارکول، سائیکلیں، کاسمیٹکس اور پردے بھی تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ بانس کے گھر موسمی اثرات سے محفوظ اور زلزلے میں نسبتاً کم نقصان کے حامل ہو سکتے ہیں۔


