لاہور فیصل آباد سمیت پنجاب میں چار روز کے اندر پالتو شیروں کے شہریوں پر حملے کے باعث دو بچوں اور ایک وائلڈ لائف افسر زخمی ہو گیا۔ مسلسل ان واقعات کے رونما ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ فیصلہ ایک فارم ہاؤس میں جاری شادی کی تقریب کے دوران وہاں پلے ہوئے شیر کے حملے میں 8 سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہونے کے بعد کیا۔
مریم نواز کی ہدایت پر کمسن واجد کو گنگا رام اسپتال علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کو جدید بائیونک بازو لگانے کی ہدایت کی ہے۔ تاکہ وہ اپنی زندگی معمول کے مطابق گزار سکے۔



