چنڈی گڑھ (بین الاقوامی ڈیسک) چنڈی گڑھ یونیورسٹی میں طالبات کے لاپتہ ہونے اور مبینہ ہلاکت کی اطلاعات پر طلباء نے احتجاج شروع کر دیا۔ بھارتی ریاست پنجاب میں چنڈی گڑھ-پٹیالہ روڈ پر واقع چتکارا یونیورسٹی میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات گردش کرنے لگیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان اطلاعات کے بعد بڑی تعداد میں طلباء یونیورسٹی کیمپس میں جمع ہو گئے اور انتظامیہ سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔ پولیس اور یونیورسٹی حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ احتجاج کرنے والے طلباء کا کہنا ہے کہ دو طالبات لاپتہ ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ حقیقت سامنے لائی جائے اور یونیورسٹی کیمپس میں نصب تمام کیمروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے۔ بعض طلباء نے رات کے وقت ہاسٹل سے مبینہ طور پر آنے والی آوازوں اور کیمپس میں ایمبولینسوں کی آمد و رفت پر بھی سوالات اٹھائے۔ ہنگامے کے دوران پولیس اور طلباء کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ڈی ایس پی بنور سکھ دیو سنگھ نے کہا کہ پولیس کو طلباء کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے اور دستیاب معلومات اور ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی طالب علم کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔


