لاہور (بیورو رپورٹ) پنجاب میں گندم کی سرکاری خریداری کے لیے استعمال ہونے والے ای پروکیورمنٹ سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث حکومت نے نجی کمپنیوں کو ابتدائی منظوری نامے جاری کرنے کے معاملے پر ایک مرتبہ خصوصی استثنیٰ دے دیا۔ گندم پالیسی 2026ء کے تحت حکومت نے 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم سرکاری ای پروکیورمنٹ سسٹم متعدد کامیاب کمپنیوں کو منظوری نامے جاری نہ کرسکا۔ دستاویزات کے مطابق سسٹم کی تکنیکی خرابی کے باعث منتخب نجی کمپنیوں کو ابتدائی منظوری نامے سرکاری خطوط اور ای میلز کے ذریعے جاری کیے گئے۔ بعد ازاں حکومت نے ان ابتدائی منظوری ناموں کو باضابطہ انتظامی تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ بولیوں کی وصولی اور کامیاب کمپنیوں کے انتخاب سمیت خریداری کے تمام مراحل ای پروکیورمنٹ سسٹم پر مکمل کیے گئے تھے، تاہم منظوری نامے جاری کرنے کے مرحلے میں تکنیکی رکاوٹ سامنے آئی۔ پیپرا نے بھی سسٹم کی تکنیکی محدودیت کی تصدیق کرتے ہوئے حکومت کو ایک مرتبہ استثنیٰ دینے کی سفارش کی۔ حکومت نے پہلے سے جاری اور باقی ماندہ ابتدائی منظوری ناموں کے لیے خصوصی استثنیٰ کی منظوری دے دی۔ حکومتی فیصلے کے بعد تکنیکی خرابی کے باعث روکے گئے منظوری ناموں کے اجرا کا عمل مکمل کیا جاسکے گا، جبکہ گندم خریداری کا مقررہ 30 لاکھ میٹرک ٹن ہدف بھی برقرار رہے گا۔


