بشکیک: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے ملاقات کی۔
وزیر اعظم نے صدر شوکت مرزیایوف اور ازبکستان کے عوام کو ملک کی آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے فروری 2026 میں صدر مرزیایوف کے دورہ پاکستان اور اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے پہلے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار دی ہے۔
وزیر اعظم نے قیادت کی سطح پر کیے گئے فیصلوں، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون سے متعلق فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے 2029 تک دوطرفہ تجارت کا حجم 2 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ کیا اور توسیع شدہ ترجیحی تجارتی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد، کاروباری روابط میں اضافے اور باہمی مفاد پر مبنی مشترکہ منصوبوں کے فروغ کی ضرورت اجاگر کی۔
علاقائی رابطوں کو مشترکہ اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ وسطی اور جنوبی ایشیا کو باہم منسلک کرنے اور ازبکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر جلد پیش رفت اور پہلے سے موجود کثیرالجہتی ٹرانسپورٹ راہداریوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے ازبک تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے ذریعے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم نے فضائی رابطوں میں اضافے، بالخصوص تاشقند، کراچی براہ راست پروازوں کے حوالے سے پیش رفت کی حمایت کی۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی آئندہ پاکستان کی صدارت کے لیے ازبکستان کی حمایت کو سراہا اور علاقائی سلامتی، رابطوں، تجارت اور پائیدار ترقی کے لیے ازبکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) اور دیگر کثیرالجہتی فورمز میں بھی مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے ازبکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے بہترین سیاسی تعلقات کو عوام کے لیے ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔


