سرینگر (انٹرنیشنل ڈیسک)۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تصدیقی کارروائیوں کے نام پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
تارکینِ وطن مزدوروں کی نگرانی، گرفتاری اور بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس تصدیق کے نام پر کئی ماہ سے جاری کریک ڈاؤن کے دوران مزدوروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
باغات، اینٹوں کے بھٹوں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے والے مزدور متاثر ہو رہے ہیں۔ مزدوروں کو پولیس تھانوں میں طلب کر کے آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات پیش کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی اس واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جب قابض انتظامیہ نے 150 بنگلہ دیشی شہریوں کے پہلے گروپ کو سرینگر سے منتقل کیا۔ بھارتی فضائیہ کے طیارے کے ذریعے انہیں مغربی بنگال کے علاقے باگڈوگرا لے جایا گیا۔
انہیں پیراملٹری بارڈر سکیورٹی فورس کے حوالے کر دیا گیا تاکہ انہیں بین الاقوامی سرحد کے پار دھکیلا جا سکے۔ مزید 150 افراد کو 7 اکتوبر کو بے دخل کیے جانے کا امکان ہے۔
پولیس کا دعوی ہے کہ مقبوضہ علاقے میں تقریباً 600 بنگلہ دیشی شہری رہائش پذیر ہیں۔ ان کی اکثریت وادی کشمیر میں مقیم ہے۔
یہ کارروائی جموں میں روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف جاری بے دخلی مہم کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ مکان مالکان کو نوٹس جاری کیے گئے اور نروال، کرانی تالاب اور سنجوان میں بستیاں مسمار کر دی گئیں۔
اس کارروائی کے نتیجے میں متعدد خاندان بے گھر ہو گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تصدیق اور بے دخلی کی یہ کارروائیاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی منظم مہم ہیں۔
سکیورٹی کے نام پر مسلم آبادی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔


