واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکہ میں کشمیری فلم ساز عرفات شیخ کی گرفتاری نے ممکنہ انتقامی کارروائی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ان کی ایوارڈ یافتہ فلم سیفرون کنگڈم میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بیالیس سالہ عرفات شیخ کو چوبیس ستمبر کو ورجینیا کے واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا۔ امریکہ کی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے پرواز سے اترنے کے بعد انہیں حراست میں لے لیا۔
عرفات شیخ کی رہائی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ وہ اس وقت بالنگ گرین کے کیرولین ڈیٹینشن سینٹر میں زیر حراست ہیں۔
عرفات شیخ قانونی اسٹوڈنٹ ویزے پر امریکہ گئے تھے اور بعد میں سیاسی پناہ کی درخواست دی۔ حامیوں کے مطابق ان کی پناہ کی درخواست اس وقت زیر التوا ہے۔


