اسلام آباد (این این آئی)۔ رکن قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا ایڈوائرر کونسل کی رکن ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ مشکل فیصلہ تمغہ لینے کے لیے نہیں کیا۔
خیبر پختونخوا بھی چاہتا ہے کہ باقی پاکستان کی طرح ترقی کرے۔ کابینہ ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ کے پی کی رہائشی ہیں۔
وہ اور ان کے بچے دو ہزار آٹھ میں آئی ڈی پیز کے طور پر اسلام آباد شفٹ ہوئے۔ ان کے سسر پر پانچ حملے ہوئے اور پانچویں میں وہ جانبر نہ ہوسکے۔
تمام قربانیوں کے باوجود ایسی حکومت مسلط ہوگئی جسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ وہ عوام کی قربانیوں اور شہیدوں کی بات کریں گی۔
خیبر پختونخوا میں پرانا تعلیمی سلیبس چل رہا ہے۔ ان کے آبائی علاقے لکی مروت میں عورتیں باہر نہیں نکل سکتیں اور بچے اسکول نہیں جاسکتے۔


