کراچی (انٹرنیشنل ڈیسک)۔ روزانہ پانچ گھنٹے سے کم نیند لینے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔
اس کے باعث دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ طبی تحقیقات کے مطابق نیند کی کمی جسمانی صحت اور ذہنی کارکردگی دونوں کو متاثر کرتی ہے۔
صحت سے متعلق ایک رپورٹ کے مطابق ناکافی نیند مدافعتی نظام کو کمزور کرسکتی ہے۔ اس سے انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور نزلہ زکام کا امکان بڑھتا ہے۔
مسلسل کم نیند کا تعلق امراض قلب اور فالج کے خطرے سے بھی پایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیند کی کمی دماغی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اس سے توجہ مرکوز کرنے، فیصلہ سازی اور یادداشت کمزور ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
ناکافی نیند جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس کی قسم دوم کے خطرے سے بھی منسلک ہے۔
ماہرین کے مطابق نیند کی کمی ڈرائیونگ میں توجہ کم کرکے ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اس سے جلد کی تازگی متاثر ہوتی ہے اور چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔
بعض اقسام کے سرطان اور نیند کی کمی کے تعلق کے لیے مزید شواہد ضروری ہیں۔
صحت مند رہنے کے لیے بالغ افراد کو روزانہ سات سے نو گھنٹے نیند لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ سونے اور جاگنے کے اوقات باقاعدہ رکھیں اور رات کو سونے سے قبل برقی آلات کا استعمال محدود کریں۔


