اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 10 ارب ڈالر کی سویپ لائن کے معاملے پر پاکستان کو امریکا کی جانب سے تعمیری پیش رفت ملی ہے اور امید ہے کہ آئندہ چند ماہ میں جواب موصول ہو جائے گا۔ پاکستان رواں مالی سال میں یورو بانڈز کے اجرا سے ایک سے 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کی منصوبہ بندی کے تناظر میں پاکستان نے امریکا سے مالی تعاون حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کی جانب سے واشنگٹن سے مانگی گئی 10 ارب ڈالر کی سویپ لائن کا مقصد نجی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا اشارہ دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) اور ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کا اہم کردار ہے، جنہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ممکنہ مالی خطرات برداشت کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ بنیادی طور پر امریکا کے ساتھ روابط کا ایک مجموعہ ہے، جس کا مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ پر توجہ مرکوز کرنا اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس کے حوالے سے مثبت اشارے دینا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت درآمدات پر انحصار کم کرکے ملک کو ادائیگیوں کے توازن کے مسلسل بحرانوں سے نکالنے کے لیے برآمدات کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ حکومت کی جانب سے لیکویڈیٹی بڑھا کر کھپت پر مبنی ترقی کی طرف بڑھنے کی کوشش سے معیشت جلد مشکلات میں پھنس جاتی ہے، کیونکہ پاکستان درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت ہے۔ اس لیے درآمدات پر مبنی ترقی کے بجائے برآمدات پر مبنی ترقی ونمو پر گہری نظر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایگزم بینک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو بوئنگ طیاروں کی فروخت کے لیے مالی معاونت اور امریکی کمپنیوں کو پاکستان کی آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ ڈی ایف سی پاکستانی کاروباری گروپوں میں ایکویٹی حصص حاصل کر سکتی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان بیک وقت امریکا اور چین کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون بڑھا سکتا ہے، تاہم پاکستان اس وقت چین سے اضافی مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ یورو بانڈز کا اجرا مارکیٹ کی قیمت اور میچورٹی پر منحصر ہوگا، تاہم پاکستان رواں مالی سال میں ان بانڈز سے ایک سے 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 75 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کرنے کے لیے چوتھے ٹینڈر کی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے، جو چین کی کیپٹل مارکیٹس کے حجم کے پیش نظر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اس وقت اہم ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ اگلے تقریباً 12 ماہ میں دوبارہ بی پلس ریٹنگ تک پہنچ سکے، تاہم ہدف کم از کم ڈبل بی ریٹنگ حاصل کرنا ہے۔ ان کے بقول ایسی کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اس سطح تک نہ پہنچ سکے۔


