چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے بروقت انصاف کی فراہمی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد وراثت میں نہیں ملتا بلکہ دیانت داری سے حاصل کیا جاتا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے نوجوان ججز پر زور دیا کہ وہ بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے ضلعی عدالتوں کو نظام انصاف کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے ضلعی عدالتوں اور ہائیکورٹ کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتیں انصاف کی فراہمی کے لیے درکار ضروریات کی فہرست بھجوائیں۔ ملک بھر میں جامع نظام انصاف کے لیے عدلیہ کی ضروریات پوری کی جائیں گی، جبکہ عدالتی ضابطہ اخلاق میں اصلاحات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کو سولر نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے، عدلیہ کو بہتر انٹرنیٹ اور عدالتوں کو ای لائبریریوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ بلوچستان کی تمام تحصیلوں اور اضلاع میں بنیادی ضروریات پر کام جاری ہے، جبکہ خواتین اور بچوں کے لیے سہولت مراکز کی فراہمی پر بھی کام ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر میں سولر سمیت تمام سہولیات موجود ہیں۔ بلوچستان کے 18 اضلاع میں سولر، پانی اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ باقی اضلاع میں ایک ماہ کے اندر یہ سہولیات فراہم کر دی جائیں گی۔
یحییٰ آفریدی نے کہا کہ انہیں ماتحت عدلیہ پر فخر ہے۔ ملک بھر کے جوڈیشل افسران کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ججز کو بیرونی دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے اعتماد کے لیے ماتحت عدلیہ کے ججز کو بااختیار بنانا عدلیہ کا مقصد ہے۔ ماتحت عدلیہ کے ججز مشکلات کے باوجود ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جبکہ سولر، انٹرنیٹ اور صاف پانی کی سہولیات کی فراہمی میں صوبائی حکومت کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ عدلیہ میں بہتری کے لیے ایکسس ٹو جسٹس کے تحت رواں سال 3 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ایکسس ٹو جسٹس پروگرام کے تحت 20 سال کے دوران صرف 900 ملین روپے جاری ہوئے تھے۔


