فائل فوٹو (اشاراتی): 中国新闻社 / Wikimedia Commons / CC BY 3.0 — https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Shenzhou_15_crew_training_08.png
اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پاکستانی پائلٹس کی خلا میں جانے کی تربیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلا باز کے طور پر کسی ایک پاکستانی کے انتخاب کا وقت قریب آ گیا ہے۔ پاکستانی پائلٹس ذیشان علی اور خرم داد بیجنگ کے چائنا ایسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے چینی زبان سیکھنے سمیت سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ خلائی مشن دونوں ممالک کے درمیان 2019 میں طے پانے والے تعاون کا حصہ ہے۔
پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو میں انسان بردار خلائی تعاون کے سربراہ عامر گیلانی کے مطابق حتمی خلا باز کے نام کا فیصلہ اکتوبر کے وسط یا آخر تک متوقع ہے۔ پاکستان کے لیے یہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ اس کا کوئی شہری خلا میں پرواز کرے گا۔ منتخب ہونے والا پائلٹ پاکستان واپس آئے بغیر براہِ راست چین سے خلائی مشن پر روانہ ہو گا اور زمین پر واپسی کے بعد وطن لوٹے گا۔
سپارکو کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر عزیر انصاری نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پائلٹوں اور سائنس دانوں کے بڑے پول میں سے 42 فائنلسٹس منتخب کیے گئے، جن کا طبی معائنہ اور نفسیاتی ٹیسٹ لیا گیا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ فائٹر پائلٹس کا انتخاب کیا گیا کیونکہ ان میں شدید جسمانی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ خلا میں جانے والا پاکستانی خلا باز پے لوڈ اسپیشلسٹ کی ذمہ داریاں سنبھالے گا اور پاکستان کے سائنسی تجربات کو سرانجام دے گا۔
عزیر انصاری نے اس موقع پر کہا کہ یہ ہمارے سائنس دانوں کے لیے زندگی میں ایک بار ملنے والا انتہائی نایاب موقع ہے جہاں پاکستانی ٹیکنالوجی کو عالمی پلیٹ فارم پر جانچا جا رہا ہے۔ چینی اداروں نے پاکستانی یونیورسٹیوں کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز میں سے چار بائیو ٹیکنالوجی تجربات کا انتخاب کیا ہے، جو غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دیں گے۔ چین اور پاکستان کا یہ تعاون خلائی اسٹیشن تک ہی محدود نہیں بلکہ 2028 کے قریب چین کے قمری مشن پر ایک پاکستانی روبوٹک روور بھی چاند پر بھیجا جائے گا۔


