(صورتِ حال، انٹرنیشنل ڈیسک) خوراک کے ضیاع کا عالمی دن 29 ستمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جائے گا۔ اس موقع پر خوراک کے نقصان اور ضیاع سے متعلق آگہی کے لیے مختلف تقریبات اور پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ماحولیاتی ادارے یو این ای پی کے مطابق دنیا کی ایک تہائی آبادی غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ روزانہ ایک ارب انسانوں کی ضرورت کے مطابق خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق 13 فیصد غذائی اجناس کٹائی سے فروخت تک ترسیلی مراحل میں ضائع ہو جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ خوراک گھروں میں ضائع ہوتی ہے، جس کا سالانہ حجم 631 ملین ٹن ہے اور یہ مجموعی ضائع شدہ خوراک کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کھانے پینے کے مقامات پر 290 ملین ٹن اور خوردہ فروشی کے دوران 131 ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔ دنیا کا ہر فرد سالانہ اوسطاً 79 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے، جس سے بھوک سے متاثرہ ہر فرد کو روزانہ 1.3 کھانے مہیا کیے جا سکتے ہیں۔
خوراک کے ضیاع کا عالمی دن کے حوالے سے سرکاری، نجی اور فلاحی اداروں کے زیر اہتمام پروگراموں میں عام لوگوں کو خوراک کے بہتر استعمال اور ضیاع میں کمی سے متعلق آگہی دی جائے گی۔


