اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کلی معیشت کا استحکام معیشت کی بنیادی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے مالی اور بیرونی شعبے میں استحکام کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
پائیدار ترقی کے لیے مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاری کا امتزاج ضروری ہے۔ حکومت ذمہ دارانہ معاشی نمو یقینی بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔
منگل کو ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ فئیر 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چند برس قبل پاکستان کو جی ڈی پی کے 12.5 فیصد کے خسارے کا سامنا تھا۔
یہ خسارہ اب جون کے اختتام تک کم ہو کر تقریباً 2.6 فیصد رہ گیا ہے۔ مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔
مسلسل تین سال سے بنیادی مالی سرپلس ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ بیرونی شعبے میں بھی نمایاں بہتری آ چکی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ ذخائر تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
اصلاحات کے آغاز پر ملک کے پاس صرف دو ہفتوں کی درآمدات کا زر مبادلہ تھا۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت ذمہ دارانہ معاشی نمو کو اہمیت دیتی ہے۔
رواں مالی سال کے لیے تقریباً 4 فیصد اقتصادی نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ افراط زر میں حالیہ اضافہ بیرونی اور علاقائی تنازعات کے اثرات کے باعث ہوا۔
پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔


