
لاہور(بیوروچیف)وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ جس صوبے میں دہشتگردی کی ایک منظم اور خطرناک لہر جاری ہو، جہاں پاکستان فوج کے جوان، پولیس کے افسران اور بے گناہ شہری روزانہ قربانیاں دے رہے ہوں، وہاں دہشتگردوں کو دہشتگرد کہنے سے انکار بذاتِ خود ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ جو عناصر نہ صرف دہشتگردوں کو دہشتگرد تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں بلکہ ان کے خلاف واضح مقف اختیار کرنے سے بھی کتراتے ہیں، وہ یہ واضح کریں کہ آخر وہ کس کے خلاف اور کس کے حق میں کھڑے ہیں؟عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ جو لوگ پاکستان کے محافظوں کے قاتلوں پر خاموشی اختیار کریں، ان سے دہشتگردی کے خلاف مثر ایکشن کی توقع رکھنا خود فریبی کے مترادف ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ظلم کرنے والا ہی نہیں بلکہ ظلم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم کہلاتا ہے، اور تاریخ نے ہمیشہ ایسے کرداروں کو بے نقاب کیا ہے جو دہشتگردی کے خلاف دوغلا مقف اپناتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت کسی ابہام، مصلحت یا سیاسی مفاد نہیں بلکہ واضح، جرات مندانہ اور غیر مبہم مقف کی ضرورت ہے، کیونکہ دہشتگردی پر خاموشی بھی جرم ہے۔عظمی بخاری نے زور دیا کہ حکومتِ پنجاب اور ریاستی ادارے دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پر یقین رکھتے ہیں اور شہدا کے خون پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔


