لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کے ہبہ تنازع کے مقدمے میں آٹھ سال بعد اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ اور ڈگری کالعدم قرار دے دی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے عبداللہ حسن کی سول نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں سنگین قانونی نقائص موجود ہیں۔ ہبہ نامے کی تصدیق کے لیے قانونِ شہادت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
ٹرائل اور اپیلٹ کورٹ مقدمے کے بنیادی تنازع کا درست تعین کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی فریق کو جرح کا حق دیے بغیر اس کے خلاف بیان استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 140 کے تحت جرح کے دوران فریق کا سامنا کرنا ضروری ہے۔
درخواست گزار کے مطابق دفعہ بارہ دو کے تحت درخواست کے لیے کبھی وکیل مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے فریقین کا موقف سن کر قانون کے مطابق دوبارہ فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔


