بین الاقوامی ڈیسک۔ مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے ایک اثر انداز نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اوپن اے آئی نے ایک بلاگ پوسٹ میں الزام عائد کیا کہ ایرانی نیٹ ورک نے دنیا بھر کے تقریبا ایک درجن میڈیا اداروں میں سات جعلی صحافیوں کے لکھے ہوئے سو کے قریب مضامین شائع کروائے۔
نیٹ ورک چلانے والوں نے مضامین لکھنے، اشاعت کی تجاویز بہتر بنانے، سماجی رابطوں پر تبصرے تیار کرنے اور اندرونی رپورٹس کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کیا۔ ان اکانٹس کا تعلق ایران سے تھا جبکہ منتظمین نے اپنا مقام چھپانے کے لیے وی پی این کی سہولت استعمال کی۔
کمپنی نے ان تمام چیٹ جی پی ٹی اکانٹس پر پابندی عائد کر دی ہے جن کے ذریعے فارسی میں پرامپٹس دے کر مضامین اور تبصرے تیار کروائے جا رہے تھے۔ زیادہ تر مضامین اور تبصرے امریکا ایران جنگ کے بارے میں تھے جبکہ بعض سرگرمیوں میں امریکی سیاست کو بھی موضوع بنایا گیا۔
ان تبصروں میں امریکا کو جارح، اسرائیل کو ناقابلِ اعتماد اتحادی اور ایران کو متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس مہم کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔
تاہم جعلی صحافیوں کے ذریعے حقیقی میڈیا میں مضامین شائع کروانے میں کامیابی حاصل ہوئی جن میں کم از کم ایک ادارے کے قارئین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔


