لاہور: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو ہر کوئی اپنی رائے دے گا۔ ان کے مطابق اس معاملے پر پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی بن سکتی ہے اور چھ سے آٹھ ماہ لگتے نظر آتے ہیں۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ بھی نکل سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے صوبوں کی تقسیم کا منصوبہ شروع نہیں کیا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت بہاولپور کو جنوبی پنجاب کے ساتھ شامل نہیں کرنا چاہتی۔ بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے یا لاہور کے ساتھ رکھنے کی تجاویز موجود ہیں، تاہم صوبوں کی تقسیم کے حق میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کوئی بڑی بات سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے منصوبے پر مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) سے گفتگو ہوئی ہوگی۔ اگر منصوبہ بنانے والوں نے مسلم لیگ (ن) سے بات کی اور اسے متعارف نہیں کرایا گیا تو اس پر سخت ردعمل نہیں دیا جا سکتا۔
صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ابھی بہت وقت ہے اور معاملہ پارلیمنٹ میں آنے کے بعد سب اپنی رائے دیں گے۔ ان کے بقول اس معاملے پر پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ ہوا۔
کینال منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے اس کی حمایت کی تھی، تاہم عوامی احتجاج کے بعد منصوبہ بند کروا دیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی سے پس پردہ گفتگو کے بارے میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایسی بات چیت ہو رہی ہوگی، تاہم اسے اپنانے کی ایک قیمت ہے جو چکانا پڑے گی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف مسلح ہو کر اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فتنہ الخوارج مبینہ طور پر بھارت کے اسپانسرڈ ہیں اور وہ تحریک انصاف کی ریلی کو ہدف بنا کر حکومت اور عوام میں دوری پیدا کر سکتے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تحریک انصاف کا احتجاج ناکام ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ کے کابینہ یا سینیٹ میں بیان دینے کی صورت میں ان سے جواب لینے کی بات بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر شیخ قیصر ان کے سامنے ہر دوسرے دن شہباز شریف سے ملتے ہیں، اس لیے شیخ قیصر کے اعتراضات یا شہباز شریف سے ملاقات نہ ہونے کی بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق کچھ معاملات غور و خوض کے لیے ہوتے ہیں اور ہر چیز عوامی نہیں کرنی چاہیے۔


